مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے قومی دفاع کے تیسویں دن کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایرانی عوام کی سڑکوں پر موجودگی نے ایک مضبوط عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران عوام کی شرکت محض مسلح افواج کی حمایت تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ براہ راست قومی مزاحمت کا حصہ بن گئی۔ ان کے مطابق، سڑکیں ان دنوں میں عوامی اتحاد اور اجتماعی قوت کی علامت بن کر سامنے آئی ہیں۔
قالیباف نے کہا کہ جنگ اس وقت ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور دشمن، جو ابتدا میں ایران کی عسکری صلاحیت کو ختم کرنے کے دعوے کر رہا تھا، اب اپنے اہداف تبدیل کر چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی آبنائے ہرمز کی صورتحال سے متعلق دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ عالمی توانائی منڈی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں مزاحمتی گروہوں کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور مختلف محاذوں پر جاری کارروائیاں دشمن کے لیے چیلنج بن چکی ہیں۔
ایرانی اسپیکر کے مطابق، دشمن ایک جانب مذاکرات کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب ممکنہ زمینی کارروائیوں کی تیاری بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایران اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور اپنی دفاعی حکمت عملی پر قائم ہے۔
محمد باقر قالیباف نے عوام پر زور دیا کہ وہ موجودہ حالات میں اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھیں اور سڑکوں پر اپنی موجودگی جاری رکھیں، کیونکہ ان کے بقول عوامی طاقت، میزائل کارروائیوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال نے مل کر دشمن پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت کو یقین ہے کہ موجودہ حالات میں استقامت کے ذریعے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور عوام کا کردار اس میں فیصلہ کن ہوگا۔
آپ کا تبصرہ